UrduMove

تحصیل دیپالپور کا تاریخی اور مثالی گاؤں 40/ڈی: تاریخ، ثقافت، تعلیم اور سماجی ترقی کا ایک جامع جائزہ

پنجاب کی دھرتی اپنے اندر بے شمار ایسے دیہات اور قصبات چھپائے ہوئے ہے جن کی تاریخ طرزِ زندگی اور ترقی کی داستانیں کسی بڑے شہر کے مقابلے میں زیادہ متاثر کن ہیں۔ عام طور پر دیہات کو پسماندگی یا بنیادی سہولیات کی کمی سے جوڑا جاتا ہے۔ لیکن وسطی پنجاب میں کچھ ایسے چکوک اور دیہات بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اور تعلیم کی طاقت سے اپنا لوہا منوایا ہے۔ انہی میں سے ایک نام ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور کے بالکل آغاز پر واقع ایک بہت بڑے اور خوشحال گاؤں کا ہے۔ جسے سرکاری ریکارڈ اور عوامی حلقوں میں “40/ڈی ماڈل ولیج” (40/D Model Village) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ گاؤں جغرافیائی، تاریخی اور سماجی لحاظ سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ماضی میں جب انتظامی ڈھانچہ مختلف تھا۔ تو یہ پورا علاقہ ساہیوال (جس کا پرانا نام ضلع منٹگمری تھا) کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ بعد کے ادوار میں جب انتظامی سہولت کے لیے اوکاڑہ کو الگ ضلع کا درجہ دیا گیا۔ تو یہ خوبصورت گاؤں تحصیل دیپالپور کی ایک اہم پہچان بن کر ابھرا۔ آج یہ گاؤں تقریباً 15 سے 16 ہزار کی وسیع آبادی پر مشتمل ہے جہاں زندگی کی تمام جدید سہولیات موجود ہیں۔ آئیے اس گاؤں کی بنیاد بزرگوں کی ہجرت کی تاریخ، تعلیمی سفر اور سماجی ارتقاء کا تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں۔

Table of Contents

40/ڈی نوناریاں والا کی ابتدائی تاریخ اور نوناری قبیلے کا پس منظر

کسی بھی معاشرے یا انسانی بستی کو سمجھنے کے لیے اس کے بانیوں اور ان کے تاریخی پس منظر کو جاننا ضروری ہوتا ہے۔ 40/ڈی کی تاریخ کا بڑا حصہ نوناری قبیلے کے گرد گھومتا ہے۔ تاریخی اور ثقافتی روایات کے مطابق، نوناری خاندان کے بزرگوں کا تعلق اس دور سے جوڑا جاتا ہے جب برصغیر پاک و ہند میں اسلامی تہذیب کی بنیادیں مضبوط ہو رہی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ قبیلہ صدیوں پہلے محمد بن قاسم کے دور میں سندھ کے راستے اس خطے میں داخل ہوا اور وہاں طویل عرصے تک آباد رہا۔

سندھ میں ایک طویل وقت گزارنے کے بعد اس خاندان کے حالات اور معاشی ضروریات نے انہیں آگے بڑھنے پر آمادہ کیا۔ چنانچہ ان کے بزرگوں نے سندھ سے ہجرت کی اور پہلے ملتان کو اپنا مسکن بنایا۔ ملتان اس دور میں علم، تصوف اور زراعت کا ایک بڑا مرکز ہوا کرتا تھا۔ ملتان میں قیام کے دوران خاندان کی نئی نسلیں پروان چڑھیں اور پھر وہاں سے بھی آگے کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوا۔

بزرگوں کی ہجرت: ملتان سے ‘چاہ اجو والا’ تک کا سفر

ملتان سے جب اس خاندان کے کچھ حصوں نے مزید مشرق کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا۔ تو اس قافلے کی سربراہی چند نامور اور بزرگ شخصیات کر رہی تھیں۔ ان بزرگوں میں تین نام تاریخ اور خاندانی روایات میں سب سے زیادہ معتبر مانے جاتے ہیں:

  1. بابا رحیم: یہ اپنے وقت کے انتہائی سمجھدار اور خاندان کے بڑے بزرگ تھے۔ جن کی سرپرستی میں خاندان نے ہجرت کے کٹھن مراحل طے کیے۔
  2. بابا کریم: یہ بابا رحیم کے حقیقی چھوٹے بھائی تھے۔ ہجرت کے ابتدائی وقت میں یہ ابھی کم عمر تھے اور اپنے بڑے بھائی کے زیرِ سایہ سفر کر رہے تھے۔
  3. بابا موج دین: یہ بابا رحیم اور بابا کریم کے فرسٹ کزن (تایا یا چچا کے بیٹے) تھے۔ یہ بھی اس وقت عمر میں چھوٹے تھے لیکن ان کے اندر خدا داد صلاحیتیں موجود تھیں۔

جب یہ قافلہ سفر کرتا ہوا ضلع اوکاڑہ کے علاقے میں پہنچا تو انہوں نے دیپالپور کے قریب ایک چھوٹے سے پرانے گاؤں ‘چاہ اجو والا’ کو اپنی رہائش کے لیے منتخب کیا۔ یہ وہ دور تھا جب اس علاقے میں زمینیں وسیع تھیں اور زراعت کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے تھے۔ ان بزرگوں کے اچھے اخلاق، محنت اور دیانتداری کو دیکھ کر انہیں کاشت کاری کے لیے اس علاقے میں بھاری تعداد میں زمینیں میسر آ گئیں۔ یہیں سے ان کی نئی زندگی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور خاندان نے معاشی طور پر استحکام حاصل کرنا شروع کیا۔

راجہ رنجیت سنگھ کا دور اور بابا موج دین کے اختیارات

برصغیر کی تاریخ میں جب سکھ شاہی یا راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت کا دور قائم ہوا تو اس وقت مقامی سطح پر زمینوں کی دیکھ بھال اور انتظامی امور کے لیے باصلاحیت لوگوں کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔ اس دور میں بابا موج دین (جن کی اولاد کو آج کے دور میں ‘بخشے والے نوناری’ کہا جاتا ہے) نے اپنی غیر معمولی ذہانت، انتظامی صلاحیتوں اور پڑوس میں رہنے والی معزز ‘موکل’ برادری کے ساتھ بہترین تعلقات کی بنا پر ایک خاص مقام حاصل کر لیا۔

اس دور کے حکومتی نظام میں بابا موج دین کو بڑے انتظامی اور عدالتی اختیارات حاصل تھے۔ وہ اپنے علاقے کے معاملات کو سلجھانے کے لیے باقاعدہ ایک لوکل عدالت لگایا کرتے تھے جہاں لوگ اپنے زمینوں اور سماجی معاملات کے فیصلے کروانے آتے تھے۔ بزرگوں کے مطابق ان کی خدمات اور اثر و رسوخ کے اعتراف میں اس وقت انہیں تقریباً 84 دیہات کے معاملات کی نگرانی یا ان کا انتظام دیکھنے کا موقع ملا۔

اس دور میں یہ بھی سوچا گیا تھا کہ ان زمینوں اور دیہات کا ایک بڑا حصہ بابا رحیم اور ان کے بھائی کے خاندان کو منتقل کر دیا جائے تاکہ پورا خاندان ایک ہی جگہ مضبوط ہو سکے۔ تاہم بعد کے ادوار میں بدلتے ہوئے ملکی حالات اور دستاویزی ریکارڈ میں تبدیلیوں کی وجہ سے معاملات نے مختلف رخ اختیار کر لیا۔ بابا موج دین نے بعد میں اپنے خاندان کے لیے ایک الگ بستی میں قیام پزیر ہوۓ جیسے آج “بخشے والا” کے نام سے ایک مشہور اور تاریخی بستی کے طور پر جانی جاتی ہے۔

خاندان کا پھیلاؤ اور دیگر نوناری برادریوں کی آمد

ادھر ‘چاہ اجو والا’ کے نزدیک بابا رحیم اور بابا کریم کے خاندان نے اپنی رہائش برقرار رکھی اور کاشت کاری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب ملتان اور دیگر علاقوں میں موجود ان کے قریبی رشتہ داروں کو ان کی خوشحالی کی خبر ملی تو انہوں نے بھی اس طرف رخ کیا۔

اسی سلسلے میں ‘جوڑے والے نوناری’ اور ‘جھنگڑ نوناری’ خاندانوں نے بھی نقل مکانی کرتے ہوئے بابا رحیم کے خاندان کے بالکل قریب آ کر اپنی بستیاں آباد کر لیں۔ ان تمام خاندانوں کا آپس میں قریبی رشتہ تھا اس لیے انہوں نے مل کر زمینوں کو آباد کیا اور ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں شریک ہونے لگے۔ اسی دوران نوناری برادری کا ایک اور معزز حصہ جسے ‘بابا پٹھانے کا خاندان’ کہا جاتا ہے، جو پہلے ‘پپلی پہاڑ’ کے نزدیک ایک دور دراز علاقے ‘چپلی پر’ میں مقیم تھا۔ وہ بھی وہاں سے منتقل ہو کر اسی بڑی برادری کا حصہ بن گیا۔ اس طرح دیپالپور کے اس خطے میں نوناری قبیلے کا ایک بہت بڑا مرکز قائم ہو گیا۔

ساہیوال سے اوکاڑہ شہر تک اراضی کی منتقلی کا واقعہ

بابا رحیم کے تین بیٹے تھے جو عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ خاندانی معاملات کو سنبھالنے لگے تھے۔ ان کے نام درج ذیل ہیں:

  • شیر محمد صاحب (یہ بابا رحیم کے سب سے بڑے بیٹے تھے)
  • توگیرا نوناری صاحب
  • ملک حسن نوناری صاحب

یہ تینوں حقیقی بھائی تھے اور ان کی اگلی اولادیں بھی بہت محنتی اور دوراندیش تھیں۔ جب برٹش راج کا دور اواخر میں تھا اور ملک کے مختلف حصوں میں نئی زمینیں الاٹ کرنے کا عمل چل رہا تھا تو ملک حسن نوناری کے بڑے بیٹے بابا لال دین نوناری نے اپنی کوششوں سے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر ‘برکلے’ کے دور میں ساہیوال کے علاقے میں ایک مربع زمین اپنے نام الاٹ کروائی۔

جب وہ زمین الاٹ ہو گئی تو خاندانی بزرگوں اور برادری نے بیٹھ کر مشورہ کیا کہ ساہیوال کا وہ علاقہ ہماری اس مرکزی بستی سے کافی دور ہے جس کی وجہ سے خاندان بکھر جائے گا۔ برادری کی اس خواہش کا احترام کرتے ہوئے بابا لال دین نوناری نے بڑی حکمتِ عملی سے کام لیا اور اس الاٹ شدہ زمین کو وہاں سے منتقل کروا کر اوکاڑہ شہر کے بالکل اندرونی حصے (اندرون اوکاڑہ سٹی) میں 18 ایکڑ کا ایک انتہائی قیمتی رقبہ اپنے نام منتقل کروا لیا۔ اس دوراندیشی کا فائدہ یہ ہوا کہ خاندان کا تعلق شہر اور دیہات دونوں جگہ مضبوط ہو گیا اور ان کے معاشی حالات مزید مستحکم ہو گئے۔

1929ء: نہری نظام، چکوک کا قیام اور 40/ڈی کا وجود

برصغیر پاک و ہند کی زرعی تاریخ میں سال 1929ء کو ایک میل کا پتھر مانا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب برطانوی حکومت نے پنجاب کے بنجر علاقوں کو سیراب کرنے اور زراعت کو فروغ دینے کے لیے لوئر باری دوآب اور اس سے منسلک نہری نظام کو وسعت دی۔ اس مقصد کے لیے نئے چکوک کاٹے گئے اور زمینوں کو باقاعدہ نمبر الاٹ کیے گئے۔

اسی نہری کالونی کے قیام کے دوران تحصیل دیپالپور کی حدود میں “40/ڈی” (40/D) نامی چک کا وجود عمل میں آیا۔ یہاں انگریزی حرف ‘ڈی’ (D) دراصل پاس سے گزرنے والی مخصوص نہر یا ڈسٹریبیوٹری کو ظاہر کرتا تھا جیسے پنجاب کے دیگر اضلاع میں نہروں کی مناسبت سے ایل (L) یا آر (R) کے حروف استعمال کیے جاتے ہیں۔

جب 1929ء میں اس نئے چک کی زمینیں الاٹ ہوئیں تو بابا رحیم، بابا پٹھانے، بابا جوڑے اور بابا جھنگڑ کے خاندانوں کو یہاں رقبہ ملا۔ چنانچہ سال 1930ء میں ان بزرگوں نے آہستہ آہستہ ‘چاہ اجو والا’ سے مستقل طور پر اس نئے چک کی طرف ہجرت شروع کر دی۔ چونکہ بابا رحیم کے سب سے بڑے بیٹے کا نام ‘شیر محمد’ تھا اس لیے ان کی عزت اور احترام میں اس نئے گاؤں کا نام “شیر نگر” رکھا گیا۔ سرکاری کاغذات میں یہ 40/ڈی کہلایا اور عوامی زبان میں اسے شیر نگر کے نام سے پکارا جانے لگا۔

سماجی تنوع: گاؤں میں دیگر برادريوں کی آمد

جب نوناری خاندان کے بزرگوں نے 40/ڈی میں مستقل سکونت اختیار کر لی تو ایک بڑے گاؤں کے نظام کو چلانے کے لیے مختلف پیشوں سے وابستہ افراد کی ضرورت پیش آئی۔ چنانچہ ان بزرگوں کے ساتھ دیگر معزز برادریاں بھی اس گاؤں کا حصہ بنیں۔ جنہوں نے گاؤں کی معیشت اور سماجی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔

ان برادریوں میں سیال برادری اور رحمانی برادری کے لوگ نمایاں تھے جو اپنے ساتھ دستکاری، تعمیرات اور دیگر سماجی خدمات کی مہارتیں لے کر آئے۔ ان کے علاوہ معاشرے کے دیگر معاون طبقات بھی یہاں آباد ہوئے جس سے گاؤں ایک مکمل اور خود کفیل بستی بن گیا۔ 1947ء میں قیامِ پاکستان سے پہلے یہاں بہت ہی قلیل تعداد میں (تقریباً ایک سے دو فیصد) سکھ اور ہندو برادری کے لوگ بھی رہتے تھے۔ جو تقسیم کے وقت پرامن طریقے سے ہجرت کر گئے اور تب سے یہ گاؤں مکمل طور پر مسلم آبادی پر مشتمل ایک پرامن معاشرہ پیش کر رہا ہے۔

40/ڈی کی موجودہ برادریاں اور ذیلی آبادیاں

آج کے جدید دور میں 40/ڈی صرف ایک روایتی چک نہیں رہا بلکہ یہ رقبے اور آبادی کے لحاظ سے ایک چھوٹے شہر جتنی وسعت اختیار کر چکا ہے۔ آبادی میں اضافے کے باعث اصل گاؤں کے ساتھ ساتھ اب کئی جدید اضافی آبادیاں اور کالونیاں بھی قائم ہو چکی ہیں جو اس کی ترقی کی گواہی دیتی ہیں۔ ان اضافی آبادیوں میں درج ذیل نام شامل ہیں:

  • امیر کالونی: یہ ایک جدید رہائشی حصہ ہے جہاں بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
  • ستار کالونی: اس حصے میں بھی آبادی کا ایک بڑا طبقہ رہائش پذیر ہے۔
  • سندھیوں والی آبادی: یہ ان خاندانوں پر مشتمل ہے جن کے آباؤ اجداد کا تعلق تاریخی طور پر سندھ کے خطے سے رہا تھا۔
  • چاہ باویہ والا آبادی: یہ بھی گاؤں کا ایک اہم اور گنجان آباد حصہ ہے۔

اگر ہم گاؤں کی برادریوں کا جائزہ لیں تو آج بھی گاؤں کی کل آبادی کا تقریباً نصف (آدھا سے زیادہ) حصہ بابا رحیم کی نسل (نوناری قبیلے) پر مشتمل ہے۔ اسی لیے اس گاؤں کو اکثر ’بابے رحیم کا پنڈ‘ یا ’40/D نوناریاں والا پنڈ‘ بھی کہتے ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر پتی داروں اور معزز برادریوں میں بابے پٹھانے کا خاندان، بابے جوڑے والا خاندان، بابے جھنگڑ کا خاندان اور بھٹ برادری شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ گجر، آرائیں، سیال، رحمانی، بھٹہ اور ڈولا برادری کے لوگ بھی بڑی تعداد میں یہاں آباد ہیں۔

اس گاؤں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں کبھی بھی برادری ازم یا فرقہ واریت کو ہوا نہیں ملی۔ تمام لوگ ایک دوسرے کے خوشی اور غم میں شریک ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آس پاس کی دیگر لوکل برادریاں، جن میں موکل، بلوچ، پٹھان اور پراچہ برادری شامل ہیں وہ نوناری خاندان اور 40/ڈی کے لوگوں کو انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اور پنجابی ثقافت کے مطابق انہیں اپنے “داد کے” (یعنی دادا کا خاندان یا بزرگوں کا درجہ) تسلیم کرتی ہیں۔

ترقی کا پہلا بڑا سنگِ میل: 1960ء میں بجلی کی آمد

اگر ہم 40/ڈی کی جدید ترقی کا مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ یہ گاؤں اپنے دور کے دیگر دیہات سے ہمیشہ دو قدم آگے رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال سال 1960ء میں یہاں بجلی (الیکٹریسٹی) کی آمد ہے۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کے بڑے بڑے قصبات اور حتیٰ کہ تحصیل دیپالپور شہر بھی بجلی کی نعمت سے محروم تھا۔

اس دور میں 40/ڈی میں بجلی کا انفراسٹرکچر قائم ہونا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ بجلی آنے کا سب سے بڑا فائدہ یہاں کی زراعت کو ہوا۔ کسانوں نے روایتی طریقوں کو چھوڑ کر زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے برقی ٹیوب ویل لگانے شروع کر دیے۔ 1960ء کی دہائی کے آغاز میں ہی یہاں کئی ٹیوب ویل فعال ہو چکے تھے۔ جس سے نہ صرف پینے کے لیے صاف پانی ملا بلکہ فصلوں کی پیداوار میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا۔ گھروں میں روشنی آنے سے لوگوں کے رہن سہن کا معیار بدلا اور رات کے وقت بھی سماجی و تعلیمی سرگرمیاں ممکن ہو سکیں۔

تعلیم کا فروغ: اسکولوں کا قیام اور تاریخ

40/ڈی کے بزرگوں کی ایک اور اہم خوبی یہ تھی کہ وہ تعلیم کی اہمیت سے اچھی طرح واقف تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر نئی نسل کو ملک کا مفید شہری بنانا ہے تو اسکولوں کا ہونا لازمی ہے۔ اسی سوچ کے تحت درج ذیل تعلیمی سنگِ میل حاصل کیے گئے:

تعلیم کا فروغ اسکولوں کا قیام اور تاریخ

۱۔ گورنمنٹ پرائمری اسکول (1962ء)

بجلی آنے کے فوراً بعد سال 1962ء میں گاؤں میں پہلے باقاعدہ گورنمنٹ پرائمری اسکول کی بنیاد رکھی گئی۔ اس اسکول کے قیام سے گاؤں اور آس پاس کے چکوک کے بچوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھل گئے۔

۲۔ بوائز اسکول کی ترقی (1982ء اور 1988ء)

وقت کے ساتھ ساتھ بچوں کی تعداد بڑھنے پر پرائمری اسکول کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ سال 1982ء میں اسے مڈل اسکول کا درجہ ملا اور محض چھ سال بعد یعنی 1988ء میں یہاں کے لوگوں کی محنت اور حکومتی تعاون سے اسے گورنمنٹ ہائی اسکول کا درجہ دے دیا گیا۔ آج یہ اسکول علاقے کا ایک بڑا تعلیمی مرکز ہے۔

۳۔ گورنمنٹ گرلز اسکول (1975ء)

اس گاؤں کے لوگ خواتین کی تعلیم کے معاملے میں بھی بہت ترقی پسند سوچ کے حامل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سال 1975ء میں جب دیہاتوں میں لڑکیوں کی تعلیم کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی یہاں لڑکیوں کے لیے الگ اسکول قائم کیا گیا۔ یہ اسکول بھی پر پرائمری اسکول بعد میں مڈل اور پھر 2013ء میں ہائی اسکول کے درجے تک پہنچا۔ جس نے گاؤں کی بچیوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

مذہبی روایات اور جامعہ مسجد کی تعمیر (1962ء)

40/ڈی کے لوگ جہاں دنیاوی تعلیم اور معاشی ترقی میں آگے رہے ہیں وہاں وہ اپنی مذہبی اور اخلاقی روایات سے بھی گہرے جڑے ہوئے ہیں۔ گاؤں کی کل آبادی میں سے تقریباً 99 فیصد لوگ سنی مسلمان ہیں۔ جبکہ ایک سے دو فیصد شیعہ مسلمان بھی یہاں آباد ہیں اور دونوں مکاتبِ فکر کے لوگ ہمیشہ مکمل مذہبی ہم آہنگی اور احترام کے ساتھ رہتے ہیں۔

گاؤں میں اس وقت کل 4 مساجد موجود ہیں جو لوگوں کی مذہبی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ ان میں سب سے قدیم اور مرکزی مسجد “جامعہ مسجد” ہے۔ گاؤں کی بنیاد کے بعد اور تقسیم کے وقت یہاں ایک چھوٹی سی کچی مسجد ہوا کرتی تھی لیکن سال 1962ء میں جب گاؤں میں تعلیمی اور معاشی انقلاب آ رہا تھا۔ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اللہ کے گھر کو بھی وسیع اور خوبصورت بنایا جائے۔

مذہبی روایات اور جامعہ مسجد کی تعمیر

اس مسجد کی تعمیرِ نو اور توسیع میں ملک جلال الدین نوناری صاحب نے انتہائی نمایاں اور قائدانہ کردار ادا کیا۔ ان کے ساتھ گاؤں کے ہر چھوٹے بڑے فرد نے اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لیا۔ اس وسیع مسجد کی تعمیر کے بعد سے یہاں عید میلاد النبی ﷺ اور دیگر مذہبی تہوار انتہائی جوش و خروش، عقیدت اور احترام کے ساتھ منائے جاتے ہیں جس میں پورا گاؤں اکٹھا ہوتا ہے۔

28 جنوری 1995ء: ایک تاریخ ساز دن اور ‘ماڈل ولیج’ کا اعزاز

40/ڈی (شیر نگر) کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سنہری دن 28 جنوری 1995ء ہے۔ یہ وہ دن تھا جس نے اس گاؤں کو پورے خطے میں ایک ممتاز اور مثالی حیثیت دلا دی۔ اس وقت پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ میاں منظور احمد خان وٹو تھے جو اس علاقے کی ترقی میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ انہوں نے اس گاؤں کی ماڈل خصوصیات کو دیکھتے ہوئے اس وقت کی وزیرِ اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کو یہاں کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

28 جنوری 1995ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں منظور احمد خان وٹو نے مشترکہ طور پر 40/ڈی کا دورہ کیا۔ گاؤں آمد پر ان کا تاریخی استقبال کیا گیا اور ایک بہت بڑا عوامی جلسہ منعقد ہوا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو یہاں کے لوگوں کے جوش و خروش، صفائی ستھرائی کے نظام پکی گلیوں، پرانے ٹیلی فون نیٹ ورک اور تعلیمی ماحول سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ انہوں نے اسی وقت اسٹیج سے اس گاؤں کو باقاعدہ “40/ڈی ماڈل ولیج” (40/D Model Village) یعنی مثالی گاؤں کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ اس گاؤں میں کئی دیگر سیاسی شخصیات نے بھی خدمات سر انجام دی ہیں۔

ماڈل ولیج بننے کے بعد ترقیاتی منصوبوں کی بارش

اس تاریخی اعلان کے بعد حکومت کی طرف سے 40/ڈی کو ماڈل ولیج بنانے کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے گئے جس سے گاؤں کا نقشہ ہی بدل گیا۔ ان منصوبوں میں درج ذیل سہولیات شامل تھیں:

  • نیشنل بینک کی شاخ: کسی بھی گاؤں میں بینک کی برانچ ہونا ایک بہت بڑی سہولت ہے جس سے کسانوں اور ملازمین کو شہر جانے کی ضرورت نہیں رہی۔
  • ٹیلیفون ایکسچینج اور ڈاخانہ: گاؤں میں ایک جدید ڈیجیٹل ٹیلیفون ایکسچینج قائم کی گئی اور محکمہ ڈاک کا باقاعدہ سب آفس بنایا گیا۔
  • پختہ کھال اور سولنگ: پورے گاؤں کی گلیوں میں پکی اینٹیں اور سولنگ لگائی گئی اور پانی کی نکاسی کے لیے نالیاں بنائی گئیں۔ زراعت کے لیے پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے پختہ کھالیں تعمیر کی گئیں۔
  • سٹریٹ لائٹس کا نظام: گاؤں کے تمام اہم بازاروں اور گلیوں میں سٹریٹ لائٹس نصب کی گئیں جن سے رات کے وقت بھی گاؤں شہر کا منظر پیش کرنے لگا۔
  • سوئی گیس کی فراہمی: جیسے ہی تحصیل دیپالپور کے شہری علاقوں میں سوئی گیس کا نیٹ ورک پہنچا تو ماڈل ولیج ہونے کے ناطے فوراً بعد 40/ڈی کو بھی سوئی گیس کی لائن سے جوڑ دیا گیا۔ یہ سہولت 2007 سے لے کر آج تک بغیر کسی تعطل کے جاری ہے اور یہاں کے گھروں کو لکڑی یا سلنڈر کے استعمال سے نجات مل چکی ہے۔
  • ڈنگر ہسپتال: گاؤں میں ڈنگر ہسپتال کا قیام بھی ایک اہم سہولت ثابت ہوا جس سے مویشی پال حضرات کو اپنے جانوروں کے علاج معالجے کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ نہیں کرنا پڑتا۔ یہاں مویشیوں کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جس سے زراعت اور لائیو سٹاک سے وابستہ لوگوں کو نمایاں فائدہ حاصل ہوا۔
  • نہری کھالوں کی تعمیر: گاؤں میں آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نہری کھالیں تعمیر کی گئیں جس سے زرعی زمینوں تک پانی کی فراہمی میں آسانی پیدا ہوئی۔ پختہ کھالوں کی وجہ سے پانی کے ضیاع میں کمی آئی اور کسانوں کو اپنی فصلوں کی بہتر پیداوار حاصل کرنے میں مدد ملی۔

لٹریسی ریٹ اور اہم عہدوں پر فائز شخصیات

تعلیم کے میدان میں 40/ڈی کی کارکردگی اتنی شاندار ہے کہ اس کا لٹریسی ریٹ (شرح خواندگی) نہ صرف تحصیل دیپالپور بلکہ پورے ساہیوال ڈویژن کے دیہات میں سب سے نمایاں مانا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ “سیلف میڈ” ہیں یعنی انہوں نے بغیر کسی سفارش کے صرف اپنی محنت، لگن اور قابلیت کے بل بوتے پر اعلیٰ مقامات حاصل کیے ہیں۔

آج اس گاؤں کے پڑھے لکھے نوجوان اور بزرگ ملک کے اہم ترین سول، عدالتی اور تعلیمی اداروں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں:

  1. قانونی شعبہ (وکلاء اور ججز): اللہ کے فضل سے اس گاؤں نے ملک کو درجنوں نامور وکلاء دیے ہیں جو مختلف بار کونسلز میں سرگرم ہیں۔ اس دھرتی سے تعلق رکھنے والی ایک معزز خاتون جج کے عہدے پر بھی فائز رہ کر انصاف فراہم کرتی رہی ہیں۔
  2. سول سروسز (CSP Officers): اس گاؤں کا نام اس وقت مزید روشن ہوا جب یہاں کی ایک بیٹی (مسز شہزاد انور) نے سینٹرل سپیریئر سروسز (CSS) کا امتحان پاس کیا اور بطور سی ایس پی (CSP) آفیسر ملک کے اہم انتظامی عہدے پر فائز ہوئیں۔
  3. سرکاری ملازمین: گاؤں کے بے شمار افراد واپڈا، محکمہ تعلیم، صحت اور پولیس میں اعلیٰ عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ اللہ کے فضل سے یہاں کئی افراد 17ویں، 18ویں، 19ویں اور 20ویں اسکیل تک کے سرکاری افسران کے طور پر ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔

کھیل، میلے اور ثقافتی سرگرمیاں

ایک صحت مند معاشرے کے لیے کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کا ہونا لازمی ہے۔ 40/ڈی کے لوگ جتنے محنتی اور پڑھاکو ہیں کھیلوں کے میدان میں بھی اتنے ہی پُرجوش ہیں۔ یہاں سال بھر کوئی نہ کوئی کھیل جاری رہتا ہے جو نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھتا ہے۔

نوناری کرکٹ لیگ (NCL)

یہ گاؤں کا سب سے بڑا اور مقبول ترین اسپورٹس ایونٹ ہے جو ہر سال باقاعدگی سے منعقد ہوتا ہے۔ اس لیگ میں گاؤں کی مختلف ٹیمیں حصہ لیتی ہیں اور فائنل میچ کے دن پورے گاؤں میں جشن کا سماں ہوتا ہے۔

روایتی اور ثقافتی کھیل

کرکٹ کے علاوہ یہاں پنجاب کے روایتی کھیل بھی بہت شوق سے کھیلے اور دیکھے جاتے ہیں۔ ان میں نیزہ بازی (Tent Pegging)، کبڈی، رسہ کشی اور بیڈمنٹن شامل ہیں۔ نیزہ بازی کے مقابلوں میں دور دور سے لوگ آتے ہیں۔

سالانہ میلے

گاؤں میں ہر سال روایتی ثقافتی میلے بھی لگتے ہیں۔ ان میلوں میں مقامی فنکار اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دکانیں سجتی ہیں اور لوگ اپنے بچوں کے ساتھ آ کر ان میلوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ میلے سے واپسی پر گھر والوں اور بچوں کے لیے روایتی مٹھائیاں (جیسے جلیبی اور لڈو) خریدنا یہاں کی ایک خوبصورت ثقافت کا حصہ ہے۔

بنیادی ڈھانچہ اور سفری سہولیات

جغرافیائی طور پر 40/ڈی ایک ایسے مقام پر واقع ہے جہاں سے بڑے شہروں تک رسائی انتہائی آسان ہے۔ گاؤں کی معیشت اور آمد و رفت کو سہارا دینے کے لیے دو اہم ترین مین روڈز موجود ہیں:

  • اوکاڑہ روڈ: یہ سڑک گاؤں کو ضلع ہیڈ کوارٹر اوکاڑہ سے جوڑتی ہے۔ اس روڈ پر گاؤں کا ‘مین اسٹاپ’ واقع ہے جہاں سے ہر وقت ٹرانسپورٹ دستیاب ہوتی ہے۔
  • دیپالپور روڈ: یہ سڑک گاؤں کو تحصیل دیپالپور سے ملاتی ہے۔

حکومتی فنڈز اور مقامی تعاون سے مین اسٹاپ سے لے کر گاؤں کے اندر داخل ہونے والا راستہ اور وہاں سے مرکزی جامعہ مسجد تک جانے والی پوری سڑک پر خوبصورت اور پائیدار ٹف ٹائلز (Tuff Tiles) لگی ہوئی ہیں۔ یہ پکی اور وسیع سڑکیں گاؤں کے خوبصورت اور جدید منظر کو مزید نکھارتی ہیں۔ جس کی وجہ سے بارشوں کے دنوں میں بھی یہاں شہروں کی طرح صفائی کا نظام برقرار رہتا ہے۔ پینے کے صاف پانی کے لیے واٹر فلٹر پلانٹ آج بھی مکمل طور پر فعال ہے جو پوری آبادی کو بیماریوں سے پاک پانی فراہم کرتا ہے۔

بنیادی ڈھانچہ اور سفری سہولیات

تعلیمی اور سماجی اہمیت کا خلاصہ

اگر ہم 40/ڈی ماڈل ولیج کی پوری کہانی کا نچوڑ نکالیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ گاؤں محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہے۔ بلکہ یہ انسانی عزم، بھائی چارے اور مسلسل ترقی کی ایک زندہ مثال ہے۔ 1929ء میں انگریز دور کے ایک چھوٹے سے چک سے شروع ہونے والا یہ سفر آج ایک جدید اور مثالی ماڈل ولیج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

اس گاؤں کی سب سے بڑی طاقت یہاں کا اتحاد اور تعلیم سے محبت ہے۔ اتنی بڑی آبادی، متعدد ذیلی بستیاں اور مختلف برادریاں (نوناری، گجر، آرائیں، سیال، بھٹ، رحمانی اور قریشی وغیرہ) ہونے کے باوجود یہاں کا امن اور پیار برقرار ہے۔ یہ گاؤں اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر کسی معاشرے کو صحیح سمت، تعلیم کی سہولت اور بجلی و گیس جیسے بنیادی حقوق بروقت مل جائیں تو وہ ملک کی ترقی میں کتنا بڑا کردار ادا کر سکتا ہے۔ 40/ڈی تحصیل دیپالپور کا ایک ایسا درخشاں ستارہ ہے جو ہمیشہ چمکتا رہے گا۔

Malik Faraz Hussain Nonari
تصویر: ملک فراز حسین نوناری

یہ تاریخی مضمون ملک فراز حسین نوناری کی تحریر پر مبنی ہے۔

ہمارے دیگر مضامین:

Leave a Comment