برصغیر پاک و ہند میں بہت سے قبیلے اور برادریاں صدیوں سے آباد ہیں جن میں سے ہر ایک کی اپنی ایک منفرد تاریخ، ثقافت اور روایات ہیں۔ انہی قبیلوں میں نوناری برادری بھی شامل ہے جو آج پاکستان کے صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں بڑی تعداد میں آباد ہے۔ نوناری قبیلے کے بارے میں لکھا ہوا مواد انٹرنیٹ پر بہت کم ملتا ہے اسی لیے اس مضمون میں کوشش کی گئی ہے کہ بزرگوں کی زبانی روایات، خاندانی بیانات اور دستیاب تاریخی معلومات کو یکجا کر کے نوناری قبیلے کا ایک جامع تعارف پیش کیا جائے۔
یہ بات شروع میں ہی واضح کر دینا ضروری ہے کہ نوناری برادری کے بارے میں مستند تحریری مآخذ بہت کم ہیں۔ اس قبیلے کی تاریخ زیادہ تر زبانی روایات، بزرگوں کے بیانات اور نسل در نسل منتقل ہونے والی معلومات پر مبنی ہے۔ اس لیے اس مضمون میں جہاں کہیں بھی کوئی بات روایت کے طور پر آئی ہے اسے اسی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے نہ کہ حتمی تاریخی حقیقت کے طور پر۔
نوناری قبیلے کا ابتدائی پس منظر اور نسب سے متعلق مختلف آراء
نوناری قبیلے کی ابتدا اور شجرۂ نسب کے حوالے سے مختلف روایات اور اقوال پائے جاتے ہیں۔ چونکہ تاریخی صفحات میں مختلف خطوں کے حساب سے اس قبیلے کا تذکرہ الگ الگ طریقوں سے ملتا ہے اس لیے ان تمام بیانات کو سمجھنا قبیلے کے تانے بانے کو جاننے کے لیے ضروری ہے۔
۱۔ حضرت فاروق اعظمؓ اور سام بن نوحؑ سے نسبت سے متعلق روایات
نوناری برادری کے کچھ بزرگوں اور خاندانی بیانات میں یہ روایت سننے کو ملتی ہے کہ ان کا نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ اسی طرح بعض دیگر خاندانی روایات میں ان کے سلسلے کو حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام (سام بن نوح) سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ چونکہ قدماء اور روایتی خاندانوں میں نسب ناموں کی تحفظ کی ایک زبانی روایت قائم رہی ہے اس لیے ان روایات کو برادری کے اندر ایک تاریخی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کی علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نوناری قبیلے کے لوگ محمد بن قاسم کے ساتھ برصغیر میں آئے تھے۔
۲۔ گجرات کے راجہ کرن اور سولنکی راجپوتوں سے نسبت
ایک اور انتہائی معروف اور مشرقِ وسطیٰ و برصغیر کی روایات میں پائی جانے والی کہانی کے مطابق نوناری قبیلے کی جڑیں راجپوتوں کی سولنکی (یا چالوکیہ) شاخ سے ملتی ہیں۔ اس بیانیے کے مطابق یہ قبیلہ انہیلوارہ پٹن (موجودہ گجرات، ہندوستان) کے حکمران راجہ کرن کی نسل سے ہے۔
تاریخی تذکروں میں ملتا ہے کہ جب خلجی خاندان کے حکمران سلطان علاء الدین خلجی نے ۱۳ویں صدی کے آخر اور ۱۴ویں صدی کے آغاز میں گجرات کے خطے پر فتوحات حاصل کیں تو راجہ کرن اور ان کے قریبی رشتہ داروں نے گجرات کے علاقے سے ہجرت کا فیصلہ کیا۔ یہ لوگ ہجرت کر کے سندھ اور نیلی بار (موجودہ وسطی پنجاب) کے علاقوں میں منتقل ہو گئے۔
۳۔ سلطان محمود غزنوی کے دور سے نسبت
بعض مقامی اور شفاہی بیانات میں نوناری قبیلے کا ذکر سلطان محمود غزنوی کے دور سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ اس روایت کے تحت یہ خاندان غزنوی ادوار میں اسلام کے راستے سے روشناس ہوا اور بعد میں اس خطے میں معاشی سرگرمیوں اور زراعت سے منسلک ہو گیا۔
۴۔ عیسیٰ خان اور “نو مردی” والی روایت
ایک اور بھی مشہور اور مقامی بیانیہ عیسیٰ خان نامی ایک شخصیت سے متعلق ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ خان اور ان کے نو بھائی راجپوتانہ کے خطے سے نقل مکانی کر کے مکران اور بلوچستان کی حدود میں آئے۔ وہاں کی مقامی آبادی نے ان کی بہادری اور تعداد کی مناسبت سے انہیں “نہر مردی” یا “نو مردی” کے نام سے پکارنا شروع کیا جو آگے چل کر زبانِ زدِ عام ہوتے ہوتے نوناری کی شکل اختیار کر گیا۔
۵۔ جٹ اور سمہ قبیلے سے تعارف
برطانوی راج کے دوران جب مختلف قبائل پر کتابیں لکھی گئیں تو انگریز مؤرخ ایچ اے روز نے اپنی کتاب “گلوسری آف پنجاب ٹرائبز اینڈ کاسٹس“ میں نوناری کا ذکر جٹ برادری کے ایک حصے کے طور پر کیا۔ جبکہ دوسری طرف سندھ کے تاریخ دان شیخ صادق علی انصاری کے مطابق انہیں سندھ کے سمہ قبیلے کی ایک شاخ کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف جغرافیائی علاقوں میں آباد ہونے کے باعث اس قبیلے کی شناخت مقامی جٹ اور راجپوت ثقافتوں کے ساتھ گہری ہوتی چلی گئی۔
ایک مشہور روایت میں نوناری قبیلے کا شجرہ سوریا ونشی راجپوتوں سے جوڑا جاتا ہے۔ اس روایت کے مطابق واچا نامی ایک جد امجد سے سوریا ونشی قبائل کا آغاز ہوا اور بھوج راج، ملراج، چلک راج کے ذریعے یہ سلسلہ آگے چلا۔ کئی نسلوں بعد را نوناری نامی شخص کے چار بیٹے ہوئے جن کے نام بخشان، ماری، سامیل اور سموکھر تھے اور نوناری قبیلے کی مختلف شاخیں انہی چار بھائیوں کی اولاد سمجھی جاتی ہیں۔
لفظ “نوناری” کی وجہِ تسمیہ اور اس کے مختلف مفاہیم
نوناری قبیلے کے نام کی اصل کے بارے میں کئی روایات موجود ہیں اور ہر روایت اپنے آپ میں دلچسپ ہے۔
۱۔ “نون” (نمک) کے کاروبار اور کانوں سے وابستگی
سب سے زیادہ مشہور روایت یہ ہے کہ یہ نام “نون” یعنی نمک سے نکلا ہے۔ اس روایت کے مطابق نوناری قبیلے کے لوگ ابتدائی دور میں نمک کی کانوں پر کام کرتے تھے اور نمک کا کاروبار کرتے تھے۔ اسی پیشے کی وجہ سے لوگ انہیں “نوناری” یا “نونیا” یا “لونیا” کہنے لگے۔ پنجاب کے بعض علاقوں میں انہیں “نون گر” بھی کہا جاتا تھا جس کا مطلب نمک بنانے والا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ نام بگڑتا اور بدلتا رہا یہاں تک کہ “نوناری” کی شکل اختیار کر گیا۔
نمک کی نقل و حمل اور اس کی تجارت سے منسلک ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو مقامی طور پر ناری، نوری، نونیا، لونیا یا نہاری پکارا جانے لگا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تلفظ کی تبدیلی کی بنا پر یہ تمام الفاظ سمٹ کر “نوناری” بن گئے اور یہی اس قبیلے کی مستقل شناخت ٹھہری۔ چونکہ اس دور میں ان کے بیشتر بزرگ لکھنے پڑھنے سے زیادہ محنت مشقت اور زراعت پر توجہ دیتے تھے۔ اس لیے اس پیشے کے حوالے سے پڑنے والا نام ہی زبان پر چڑھ گیا۔
۲۔ “نو ناری” (روشن مینار) سے نسبت
ایک دوسری چلوکیہ یا راجپوتانہ روایت کے مطابق، “نوناری” دراصل “نو ناری” سے ماخوذ ہے جس کے معانی ‘نئی روشنیاں’ یا ‘روشن برج’ کے لیے جاتے ہیں۔ یہ روایت گجرات میں راجہ کرن کے قلعے اور اس کے روشن میناروں سے منسوب کی جاتی ہے۔
۳۔ “نوناری” نشاندہی اور پیشے
ایک تیسری روایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لفظ نوناری “نوناری” ہے جو کہ ایک خاص طرز زندگی اور پیشے کی نشاندہی کرتا تھا۔ قدیم وقتوں میں پنجاب کے کئی علاقوں میں نمک پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اس لیے بہت سے لوگوں نے زراعت کی طرف رخ کر لیا مگر ان کا نام “نوناری” ہی رہا۔
برصغیر میں ہجرت کے مراحل اور آبادکاری کا سفر
نوناری قبیلے کا تاریخی سفر مختلف خطوں میں ہجرت اور نئے علاقوں کو آباد کرنے سے عبارت ہے۔ وقت کے ساتھ سیاسی تبدیلیوں، جنگوں اور معاشی ضرورتوں کی بنا پر اس قبیلے نے درج ذیل مراحل میں نقل مکانی کی:
[پنجاب و دیگر اضلاع] ──► [نیلی بار (اوکاڑہ/ساہیوال)] ──► [سندھ کا خطہ] ──► [راجپوتانہ / گجرات]
۱۔ سندھ میں آمد اور قیام
راجہ کرن کے دور کی ہجرت کے بعد اس قبیلے کے ابتدائی قافلوں نے سندھ کے خطے کا رخ کیا۔ سندھ کے قدرتی وسائل، نہری نظام اور نمک کی کانوں کے باعث اس قبیلے نے وہاں اپنے قدم جمائے۔ سندھ میں قیام کے دوران ان کا تعلق مقامی سمہ اور دیگر سندھی برادریوں سے قائم ہوا۔
۲۔ نیلی بار کی طرف ہجرت اور قبولِ اسلام
سندھ میں ایک طویل وقت گزارنے کے بعد نوناری قبیلے کے بزرگوں نے پنجاب کا رخ کیا اور وہ نیلی بار (جس میں موجودہ اوکاڑہ، ساہیوال، پاکپتن اور دیپالپور کے علاقے شامل ہیں) میں آ کر آباد ہو گئے۔
نیلی بار آمد کے بعد اس قبیلے کی تاریخ میں ایک عظیم مذہبی اور روحی موڑ آیا۔ خاندانی اور مقامی روایات کے مطابق اس قبیلے کے افراد نے نیلی بار میں مشہور صوفی بزرگ حضرت مخدوم جہانیاں جہان گشتؒ کے دستِ حق پر اسلام قبول کیا۔ اسلام لانے کے بعد اس قبیلے نے صوفیانہ تعلیمات کو اپنایا اور خطے میں پرامن کاشت کاری اور محنت و مشقت کو اپنا شعار بنایا۔
۳۔ برطانوی دور اور زراعت سے وابستگی
برطانوی راج کے آنے سے پہلے پنجاب کے کئی قبائل کی طرح نوناری برادری کے کچھ لوگ بھی مویشی پالنے اور جگہ بدل کر رہنے کے عادی تھے۔ تاہم ۱۹ویں صدی اور ۲۰ویں صدی کے اوائل میں انگریز حکومت نے نہری نظام قائم کیا اور چکوک کی الاٹمنٹ شروع کی تو نوناری قبیلے نے مستقل طور پر آباد ہو کر زراعت کو اپنا لیا۔ برطانوی دور کی سختیوں اور سیاسی حالات کی بنا پر بھی اس برادری کے متعدد خاندان پنجاب کے مختلف اضلاع میں پھیل گئے۔
نوناری قبیلے کی موجودہ جغرافیائی آبادکاری
آج کے دور میں نوناری قبیلہ پاکستان اور ہندوستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں پُرکار اور فعال زندگی گزار رہا ہے۔ ڈیٹا بیس اور عمومی جغرافیائی جائزوں کے مطابق اس قبیلے کے لوگ درج ذیل علاقوں میں بڑی تعداد میں مقیم ہیں:
۱۔ صوبہ پنجاب (پاکستان)
پنجاب میں نوناری برادری کی سب سے زیادہ گنجان آبادی نیلی بار اور وسطی و جنوبی پنجاب کے اضلاع میں پائی جاتی ہے۔
- ضلع اوکاڑہ اور تحصیل دیپالپور: یہ نوناری قبیلے کا ایک طرح سے سب سے بڑا اور مرکزی مسکن سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر چک نمبر 40/ڈی (40/D) مثالی گاؤں نوناری برادری کا ایک تاریخی اور مرکزی چک کے طور پر ہے۔ اس کے علاوہ چک نمبر 39/ڈی، چک نمبر 25/ڈی، اجو والا، ٹھٹہ نوناریاں، بخشے والا نوناریاں اور قلعہ اجود سنگھ میں اس قبیلے کے خاندان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔
- دیگر اضلاع: ساہیوال، پاکپتن، ملتان، خانیوال، مظفر گڑھ، بھکر، لیہ، سرگودھا، فیصل آباد، اوکاڑہ، جھنگ، سرگودھا، دیپالپور اور لاہور۔
۲۔ صوبہ سندھ (پاکستان)
سندھ میں نوناری قبیلہ تاریخی ادوار سے آباد ہے اور وہاں کے اہم اضلاع میں درج ذیل شامل ہیں:
- جیکب آباد، شکار پور، کشمور، سکھر، لاڑکانہ، سانگھڑ، حیدرآباد، گھوٹکی، قمبر-شہدادکوٹ، نوشہروفیروز، خیرپور، مٹیاری، بدین، ٹھٹہ اور کراچی۔
۳۔ بھارت میں آبادی
ہندوستان میں نوناری قبیلے کے لوگ زیادہ تر گجرات اور راجستھان کی ریاستوں میں آباد ہیں۔ ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے قریب اعظم گڑھ نامی بستی اور دیگر قصبات میں نوناری برادری سے تعلق رکھنے والے خاندان مقیم ہیں۔
۴۔ دیگر ممالک میں موجودگی
پاکستان اور بھارت کے علاوہ روزگار اور کاروبار کے سلسلے میں نوناری برادری کے افراد خلیجی ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات)، ایران، عراق، افغانستان اور یورپی ممالک میں بھی مقیم ہیں۔
قبیلے کا سماجی ڈھانچہ، القابات اور ذیلی شاخیں
نوناری برادری نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے سماجی ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے اور مختلف علاقوں کے لحاظ سے مختلف القابات اپنائے ہیں۔
القابات (Titles & Surnames)
مختلف علاقوں میں نوناری قبیلے کے لوگ اپنے ناموں کے ساتھ درج ذیل القابات استعمال کرتے ہیں:
- نوناری
- میاں
- ملک
- جٹ
یہ القابات مختلف خطوں اور سماجی حیثیت کے مطابق استعمال ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ضلع اوکاڑہ میں نوناری “ملک” یا “جٹ” کا لقب استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ دیگر علاقوں جیسے سندھ میں “میاں” کا لقب استعمال کرتے ہیں۔
ذیلی شاخیں (پتی دار خاندان)
اوکاڑہ اور دیپالپور کے علاقوں میں نوناری قبیلے کی کئی معروف ذیلی شاخیں اور خاندانی پتی دار موجود ہیں۔ جن میں سے چند مشہور نام درج ذیل ہیں:
- بخشے والے نوناری
- جوڑے والے نوناری
- جھنگڑ نوناری
- پٹھانے کے نوناری
- مورے نوناری
نوناری قبیلے کی معزز شخصیات اور صوفیائے کرام
نوناری قبیلے نے ہر دور میں دین، علم، ادب، زراعت اور سیاست کے شعبوں میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔ اس قبیلے سے تعلق رکھنے والی چند معروف شخصیات اور صوفیائے کرام درج ذیل ہیں:
صوفیاء اور مذہبی شخصیات
- حضرت مائی صفورہ نوناریؒ: ٹوبہ ٹیک سنگھ (کمالیہ) کے قریب واقع مشہور روحانی شخصیت اور ولیہ جن کا مزار علاقے میں مرجع خلائق ہے۔
- حضرت پیر میاں بڈھن نوناریؒ: ضلع فیصل آباد کی ایک معروف روحانی شخصیت۔
- حضرت ولی محمد نوناریؒ: چناب نگر اور ملحقہ علاقوں کے معروف بزرگ۔
- حضرت محمد نوشاہی نوناریؒ: 40/ڈی مثالی گاؤں سے تعلق رکھنے والے مذہبی بزرگ۔
ادب، شاعری اور سماجی سرگرمیاں
- اللہ ڈنو نوناری: سندھی زبان کے معروف اور نامور شاعر جنہوں نے مقامی ادب کی ترسیل میں اہم کردار ادا کیا۔
- تعلیم و قانون: موجودہ دور میں نوناری برادری کے سینکڑوں نوجوان وکالت، بیوروکریسی، سول سروسز، تعلیم اور طب کے شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آل پاکستان نوناری ایسوسی ایشن (APNA)
دورِ حاضر میں اپنے قبیلے کے افراد کو باہم متحد رکھنے، غریب و مستحق خاندانوں کی مدد کرنے اور تعلیمی و سماجی مسائل کو حل کرنے کے لیے اس برادری کے فعال نوجوانوں اور عمائدین نے ایک تنظیم قائم کی ہے جسے “آل پاکستان نوناری ایسوسی ایشن” (APNA) کہا جاتا ہے۔
یہ ایسوسی ایشن ملک بھر میں نوناری برادری کے حقوق کی دیکھ بھال، باہمی تعارف کو فروغ دینے اور نوجوان نسل کی تعلیمی رہنمائی کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہی ہے۔
- چیئرمین
- صدور
- نائب صدور
- جنرل سیکرٹری
- پریس سیکرٹری
- فنانس سیکرٹری
- آفس سیکرٹری
- انفارمیشن سیکرٹری
- آڈیٹر
1911 کی مردم شماری
1911 کی مردم شماری کے مطابق، نوناری قبیلے کی آبادی مختلف اضلاع میں مندرجہ ذیل تھی:

خلاصہ
نوناری قبیلہ برصغیر پاک و ہند کی ایک قدیم، غیور اور باوقار برادری ہے۔ جس کی تاریخ گجرات کے راجپوتوں، سندھ کی قدیم تہذیب اور نیلی بار کے زرعی ماحول سے جڑی ہوئی ہے۔ اگرچہ اس قبیلے کے شجرۂ نسب اور نام کی ابتدا کے بارے میں مختلف بیانات اور زبانی روایات موجود ہیں۔ مگر یہ تمام تر روایات اس بات پر متفق ہیں کہ اس قبیلے نے ہمیشہ سخت کوشی، پرامن بقائے باہمی، دین سے لگاؤ اور زراعت و تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انگریز دور سے لے کر قیامِ پاکستان کے بعد تک 40/ڈی مثالی گاؤں جیسے مراکز اور پنجاب و سندھ کے دیگر چکوک و شہروں میں آباد نوناری برادری آج تعلیم، سیاست، قانون اور بزنس میں پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا بہترین حصہ ڈال رہی ہے۔
اہم نکات کا خلاصہ:
-
نسب: راجہ کرن کی اولاد، سولنکی/چالوکیہ راجپوت
-
اسلام: مخدوم جہانیاں کے ہاتھوں اسلام قبول کیا
-
نام کی وجہ: نمک (نون) کے کاروبار سے مناسبت
-
ہجرت: گجرات سے سندھ پھر نیلی بار اور پھر پنجاب کے مختلف علاقے
-
موجودہ آبادی: پاکستان (پنجاب، سندھ، بلوچستان) اور بھارت (گجرات، راجستھان)
-
شناخت: نوناری، میاں، ملک، جٹ
نوناری قبیلہ آج بھی اپنی روایات اور ثقافت کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور مختلف شعبوں میں قوم کی خدمت میں مصروف ہے۔