زکوٰۃ کیلکولیٹر
سونا، چاندی، نقدی اور مال تجارت — سب کی زکوٰۃ ایک جگہ حساب کریں
| مال کی قسم | نصاب | زکوٰۃ کی شرح | شرط |
|---|---|---|---|
| سونا | 87.48 گرام | 2.5% | ایک سال ملکیت |
| چاندی | 612.36 گرام | 2.5% | ایک سال ملکیت |
| نقد رقم | چاندی کے نصاب کے برابر | 2.5% | حولان حول |
| مال تجارت | نصاب کے برابر | 2.5% | سال گزرنا |
| زرعی پیداوار | 5 وسق (653 کلو) | 5% یا 10% | ہر فصل |
| مویشی (اونٹ) | 5 اونٹ | الگ نصاب | ایک سال |
زکوٰۃ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم فریضہ ہے جو ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر لازم ہے۔ یہ ایک مالی عبادت ہے جس کے ذریعے معاشرے کے غریب اور مستحق افراد کی مدد کی جاتی ہے۔ زکوٰۃ کا صحیح حساب لگانا بعض اوقات مشکل لگتا ہے، اس لیے ہم نے یہ آسان زکوٰۃ کیلکولیٹر تیار کیا ہے۔ اس کیلکولیٹر کی مدد سے آپ اپنی کل دولت، سونے چاندی اور بچت کے مطابق زکوٰۃ کی رقم چند سیکنڈوں میں معلوم کر سکتے ہیں۔ یہ ٹول مکمل طور پر مفت، قابلِ اعتماد اور اسلامی اصولوں کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ آج ہی اپنی زکوٰۃ کا حساب لگائیں اور اس فریضے کو وقت پر ادا کر کے اللہ کی رضا حاصل کریں۔
یہ ٹول کیسے استعمال کریں؟
اس ٹول کو استعمال کرنا بہت آسان ہے۔ سب سے پہلے سونے والے خانے میں اپنے پاس موجود سونے کا وزن (گرام یا تولے میں) درج کریں، اسی طرح چاندی کے خانے میں چاندی کا وزن لکھیں۔ اس کے بعد نقدی والے خانے میں اپنے بینک اکاؤنٹس اور ہاتھ میں موجود تمام روپے ڈالیں، اور مال تجارت میں اپنے کاروباری سامان کی موجودہ قیمت لکھیں۔ ان تمام اقدار کو درج کرنے سے پہلے سونے اور چاندی کے موجودہ نرخ (مثلاً مقامی مارکیٹ یا آن لائن سرچ کر کے) معلوم کر لیں تاکہ حساب درست ہو سکے۔ تمام خانے بھرنے کے بعد "کلک کریں" یا "حساب کریں" کے بٹن پر کلک کریں، اور ٹول خودبخود 2.5 فیصد کے حساب سے آپ کی کل قابلِ زکوٰۃ دولت پر زکوٰۃ کی مقدار ظاہر کر دے گا۔ نتیجہ ظاہر ہونے کے بعد آپ دیکھ سکیں گے کہ آپ پر کل کتنی زکوٰۃ واجب ہے، جسے آپ مستحقین میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ اس طرح یہ کیلکولیٹر آپ کا وقت بھی بچاتا ہے اور حساب کی غلطی سے بھی بچاتا ہے۔
نصاب کیا ہوتا ہے؟
نصاب زکوٰۃ کی وہ کم سے کم حد ہے جس پر پہنچنے کے بعد مسلمان پر زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس سونا، چاندی، نقدی یا کاروباری سامان ایک خاص مقدار سے کم ہے تو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔ سونے کا نصاب 7.5 تولے (تقریباً 87.5 گرام) ہے، جبکہ چاندی کا نصاب 52.5 تولے (تقریباً 612.5 گرام) ہے۔ آج کل زیادہ تر علماء چاندی کے نصاب کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ زیادہ لوگوں کو زکوٰۃ کا پابند بناتا ہے اور غریبوں کا زیادہ خیال رکھتا ہے۔ نصاب کا حساب لگانے کے لیے آپ کو اپنی تمام جائیداد، نقدی، اور کاروباری سرمائے کی مجموعی مالیت کو دیکھنا ہوتا ہے۔ اگر یہ مالیت چاندی کے نصاب (جو موجودہ قیمت کے مطابق تقریباً 40-50 ہزار روپے بنتا ہے) کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو آپ پر زکوٰۃ فرض ہے۔ یاد رکھیں، نصاب کا تعین سال بھر میں آپ کی دولت کی اوسط یا کم از کم حالت پر کیا جاتا ہے نہ کہ عارضی طور پر زیادہ ہونے پر۔
زکوٰۃ کن افراد فرض ہوتی ہے؟
- زکوٰۃ دینے کے لیے اس فرد کا مسلمان ہونا ضروری ہے کیونکہ زکوٰۃ صرف مسلمانوں پر فرض ہے۔
- زکوٰۃ کسی غلام یا اس شخص پر فرض نیہں ہوتی جو کسی کی ملکیت میں ہو۔ اسی لیے اس شخص کا آزاد ہونا لازی ہے۔
- زکوٰۃ اس فرد پر فرض ہوتی ہے جس کا مال نصاب کی مقررہ حد کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔
- مال پر مکمل قمری سال (حولان حول) گزر جانا لازی ہے مطلب مال ایک سال تک نصاب پر برقرار رہے۔
- مال پر کسی دوسرے کا قرض یا حق نہ ہو جو اس کی مالیت کو نصاب سے کم کر دے۔